اور یہ قرآن مجھ پر اس لئے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے اس کو آگاہ کر سکوں۔(الانعام-١٩)
ہر قسم کی تعریفات اس اللہ وحدہ لاشریک کے لئے لائق و زیبا ہیں جس نے ہمیں اور آپ کو پیدا فرمایا اور دورد و سلام اس ذات اقدس پر جن کا نام نامی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ ہے
برادران اسلام واجب الحترام
بھائیوں۔ بہنوں۔ دوستوں۔ عزیز ساتھیوں۔
اسلام علیکم۔
ہم بہت سے لوگوں کو مدد یا رسول اللہ، مدد یا نبی اللہ، کے کلمات پکارتے ہوئے سنتے ہیں اسلام میں اس کا کیا حکم ہے؟۔
مدد یا نبی اللہ، مدد یا رسول اللہ، کہہ کر پکارنا شرک اکبر ہے اس کلمہ کا معنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے تقش قدم پر چلنے والے تبعین اور تبع و تبعین، صالحین، محدثین، اہل سنت والجماعت تمام اس بات پر متفق ہیں کہ مردوں مثلا انبیاء علیہم السلام غائب لوگوں مثلا فرشتے اور جنات وغیرہ، اسی طرح بتوں، پتھروں، درختوں، یا ستاروں وغیرہ سے مدد طلب کرنا شرک اکبر ہے۔ اس کی دلیل اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!
اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو (مدد) کے لئے نہ پکارو (الجن ١٨)۔۔
نیز فرمان الہی ہے!
یہی اللہ تم سب کا پالنے والا، اسی کی سلطنت ہے جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے آپ کو کوئی بھی حق تعالٰی جیسا خبردار خبر نہ دے گا۔(الفاطر۔١٣-١٤)
نیز اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!
جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں بس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں (المومنون۔١١٧)
اس طرح کے مفہوم سے متابقت رکھنے والی آیات اور بھی بہت ہیں۔ اللہ کے سوا غیروں سے مدد طلب کرنا یہ مشرکین اورلین کفار قریش وغیرہ کا دین تھا اللہ عزوجل نے اسی باطل عقیدہ کی تردید اور اس سے ڈرانے کے لئے تمام تر رسولوں کو بھیجا اور آسمانی کتابیں نازل کیں۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ (لوگوں) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں کی عبادت سے بچو۔ ( النحل۔٣٦)۔۔۔
نیز فرمان الٰہی ہے!
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہ ہی وحی نازل فرمائی، کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم سب میری ہی عبادت کرو۔(الانبیاء۔ ٢٥)۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ربانی ہے!
الر! یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں پتھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکم باخبر کی طرف سے یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔ (ھود۔١)۔۔۔
بیز فرمان الٰہی ہے!
اس کتاب کا اتارا جانا اللہ غالب و حکمت والے کی طرف سے ہے یقینا ہم نے اس کتاب آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے خبردار اللہ کے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں۔ (اور کہتے ہیں)کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی بزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرادیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا ) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا جھوٹے اور ناشکرے لوگوں کو اللہ تعالٰی راہ نہیں دکھاتا۔ (الزمر۔١،٣)
اللہ سبحان و تعالٰی نے مذکورہ بالا آیات میں واضع فرمادیا کہ رسولوں کی بعثت اور کتابوں کے نازل کئے جانے کا مقصد یہ تھا کہ ہر طرح کی عبادت مثلا دُعا، مددطلب کرنا، خوف، اُمید، تماز، روزہ، ذبح، اور اس کے علاوہ تمام تر عبادات صرف اور صرف اللہ کے لئے انجام دی جانی چاہیئے ہیں۔ اللہ وحدہ لاشریک نے مذکورہ آیات میں یہ بھی فرمایا کہ مشرکین مکہ وغیرہ کو جب انبیاء و روسل اور دیگر داعیان حق ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے تو وہ ان کے جواب میں کہتے تھے۔ ““ ہم اولیاء کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں گے؛““ تو مفہوم یہ ہوا کہ مشرکین مکہ ان اولیاء کی عبادت اس لئے کرتے تھے کہ ان کے ذریعہ انہیں اللہ کا قرب حاصل ہو جائے اور یہ اللہ کے یہاں ان کی سفارش کردیں۔ یہ سمجھ کر ان کی عبادت نہیں کرتے تھے کہ یہ خالق ، رازق، اور مدبر کائنات ہیں۔
اللہ تعالٰی نے ان کے جھوٹ کو واشگاف کردیا اور اس عقیدے کی بنا انہیں کافر قرار دیا
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!
یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرےگا، جھوٹے اور ناشکرے لوگوں کو اللہ تعالٰی راہ نہیں دکھاتا۔ (الزمر۔٣)۔۔
اللہ وحدہ لاشریک نے واضع فرما دیا ہے کہ کفار اپنی اس بات سے جھوٹے ہیں کہ یہ اولیاء جن کی اللہ کے سوا پوجا کی جاتی ہے وہ انہیں اللہ کے قریب کر دیں گے ان کے اس اعتقاد کی وجہ سے اللہ نے ان پر کافر ہونے کا حکم صادر فرمادیا۔
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں (یونس ١٨)۔۔۔
پھر اللہ پاک نے اُن کے جھوٹ کو واضع کردیا۔
میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔ (الذریات۔٦٥)۔۔۔
لہذا تمام جنوں اور انسانوں پر خالص ایک اللہ تعالٰی کی عبادت کرنا، اور اس کے علاوہ انبیاء وغیرہ سے مدد طلب کرنا یا کسی بھی طرح کی عبادت ان کے لئے انجام دینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے تاکہ مذکورہ بالا اور اس مفہوم کی دوسرے دیگر آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء و رسل سے اللہ کی عبادت سے متعلق ثابت چیزوں پر عمل ہوجائے کیونکہ تمام تر انبیاء نے لوگوں کو توحید اور اس کے سوا تمام تر معبودوں کی عبادت سے بچتے ہوئے صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور انہیں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹہرانے اور ان ان کی عبادت سے منع فرمایا یہی دین اسلام کی جڑ اور نبیاد ہے جسے دے کر اللہ تعالٰی نے تمام تر رسولوں کو بھیجا، کتابیں بازل کیں، اور اس کے لئے جن و انس کو پیدا فرمایا۔۔۔۔
لہذا جس نے انبیاء وغیرہ سے فریاد رسی کی، اور ان سے مدد کا سوال کیا، ان کا تقرب چاہنے کے لئے کچھ عبادتیں ان کے لئے انجام دیں، تو یقینا اس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کی پوجا کی، اور وہ اللہ تعالٰی کی ان وعیدوں میں شامل ہو گیا جن کو اللہ تعالٰٰی نے مندرجہ ذیل آیات میں بیان فرمایا ہے۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!
اگر بالفرض یہ حضرات (انبیاء کرام) بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب ضائع ہو جاتے (الانعام۔ ٨٨)۔۔۔
نیز فرمایا کہ!
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم)، یقینا تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام انبیاء) کی طرف بھی وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور یقینا تو نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ (الزمر۔٦٥)۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک کا ارشاد ہے!
یقینا اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ (النساء ٤٨)۔۔
نیز اللہ تعالٰی کا فرمان ہے!
یقین مانو جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھرائے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ (المائدہ، ٧٢)۔۔۔
مذکورہ آیات اور ان کی وعیدوں سے کوئی بھی مستشنٰی نہیں ہے الا یہ کہ جسے دعوت توحید مسلمان خطوں سے بہت دو ہونے کی وجہ سے نہ پہنچی ، نہ تو اسے قرآن کریم اور نہ ہی حدیث پہنچی تو اس کا معاملہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے حوالا ہے۔ اس بارے میں اہل علم کی رائیں مختلف ہیں ان میں صحیح قول یہ ہے کہ بروز قیامت میدان محشر میں اس کا امتحان لیا جائے گا جو اللہ کے حکم کی اطاعت اختیار کرے گا وہ جنت میں، اور جو نافرمانی کرے گا جہنم میں جائے گا۔ اسی طرح بلوغت سے پہلے فوت ہونے والے کفار و مشرکین کے بچوں کی بابت اہل کے مابین اختلاف ہے ان میں سے دو اقوال صحیح ہیں۔ ذیل میں ذکر کئے جانے ہیں۔
پہلا قول؛
بروز قیامت محشر میں ان کا امتحان لیا جائے گا جو حکم الہٰی کو مان لے گا وہ جنت میں اور جو نافرمانی کرے گا وہ جہنم میں جائے گا کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ““ وہ جو کچھ کرنے والے تھے اللہ بہتر جاتا ہے؛؛۔۔۔
دوسرا قول!
مشرکوں کے بچے جنتی ہیں، کیون کہ وہ شرعی احکامات کے مکلف ہونے سے پہلے ہی فطرت اسلام پر انتقال کر گئے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ““ ہر بچہ دین اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اب اس کے والدین یا تو اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں، مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کفار و مشرکین کے بچوں کے بارے میں دوسرا قول سب سے صحیح ہے اور اللہ سبحان و تعالٰی کے اس فرمان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔۔۔
اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے!۔
اور ہمارے سنت نہیں کے رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب دینے لگیں (الاسراء، ١٥)۔۔۔